Showing posts with label urdu poetry. Show all posts
Showing posts with label urdu poetry. Show all posts

Tuesday, May 21, 2019

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا(urdu poetry)

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا 
جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا 

تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل 
ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا 

اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے 
اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا 

اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی 
میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا 

خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا(urdu poetry)

خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا
مگر پھر خود بہ خود وہ آپ کا گلنار ہو جانا

کسی دن میری رسوائی کا یہ کارن نہ بن جائے
تمہارا شہر سے جانا مرا بیمار ہو جانا

وہ اپنا جسم سارا سونپ دینا میری آنکھوں کو
مری پڑھنے کی کوشش آپ کا اخبار ہو جانا

کبھی جب آندھیاں چلتی ہیں ہم کو یاد آتا ہے
ہوا کا تیز چلنا آپ کا دیوار ہو جانا

بہت دشوار ہے میرے لیے اس کا تصور بھی
بہت آسان ہے اس کے لیے دشوار ہو جانا

کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے
کہیں چلنے کی ضد کرنا مرا تیار ہو جانا

کہانی کا یہ حصہ اب بھی کوئی خواب لگتا ہے
ترا سر پر بٹھا لینا مرا دستار ہو جانا

محبت اک نہ اک دن یہ ہنر تم کو سکھا دے گی
بغاوت پر اترنا اور خود مختار ہو جانا

نظر نیچی کیے اس کا گزرنا پاس سے میرے
ذرا سی دیر رکنا پھر صبا رفتار ہو جانا

urdu poetry


یہی تو ہیں دو ستون محکم انہیں پہ قائم ہے نظم عالم 
یہی تو ہے راز خلد و آدم نگاہ میری شباب تیرا 

صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباں 
نسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا 

تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیں 
سمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن سوال میرا جواب تیرا 

ہزار شاخیں ادا سے لچکیں ہوا نہ تیرا سا لوچ پیدا 
شفق نے کتنے ہی رنگ بدلے ملا نہ رنگ شباب تیرا 

ادھر مرا دل تڑپ رہا ہے تری جوانی کی جستجو میں 
ادھر مرے دل کی آرزو میں مچل رہا ہے شباب تیرا 

کرے گی دونوں کا چاک پردہ رہے گا دونوں کو کر کے رسوا 
یہ شورش ذوق دید میری یہ اہتمام حجاب تیرا 

جڑیں پہاڑوں کی ٹوٹ جاتیں فلک تو کیا عرش کانپ اٹھتا 
اگر میں دل پر نہ روک لیتا تمام زور شباب تیرا 

بھلا ہوا جوشؔ نے ہٹایا نگاہ کا چشم تر سے پردہ 
بلا سے جاتی رہیں گر آنکھیں کھلا تو بند نقاب تیرا

پاکستانی کون کون سے ٹیکس دیتے ہیں؟

پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ملک میں ٹیکس  دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ دو روز قبل قوم کے نام اپنے ایک ’اہم‘ پیغام میں وزی...